انقرہ11؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ترکی کے جنوب مشرقی حصے میں ضلعی گورنر کی رہائش گاہ کے سامنے ایک بم پھٹنے سے گورنر سمیت کم ازکم تین افراد زخمی ہوگئے۔یہ دھماکہ صوبہ ماردین کے قصبے دیرک میں ہوا جو شام کی سرحد سے40کلو میٹر کے فاصلے پرہے۔ترک کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں ہوا جو باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی کی جانب سے داغاگیاتھا۔ میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز اس حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔کردستان ورکرز پارٹی جنوب مشرقی ترکی میں اکثر و بیشتر دھماکے کرتی رہتی ہے جہاں وہ گذشتہ تین عشروں سے اپنے مطالبوں کے لیے شورش برپاکیے ہوئے ہے۔ترک حکومت اور باغی کردوں کے درمیان تین سال پہلے فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن ایک سال پہلے ترک صدررجب طیب اردوان کی جانب سے کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف کارروائی شروع جانے سے یہ معاہدہ ٹوٹ گیاتھا۔ترکی،امریکہ اوریورپی یونین کردستان ورکرز پارٹی کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے چکے ہیں۔1984سے شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک40ہزار سے زیادہ افرادمارے جاچکے ہیں۔